Friday, July 8, 2016

War Against Terrorism دہشت گردی کے خلاف جنگ

                 
  آزادی کے ساتھ جینے کا حق ہر انسان کا ہے خواہ وہ کسی مذہب یا کسی فرقے یا گروہ سے تعلق رکھتا ہو یا کوئی بھی زبان بولتا ہو یا کسی بھی قوم سے تعلق رکھتا ہو



                        ہہمارا نعرہ انسانیت سے محبت 

جنگ و دہشت گردی سے نفرت


                    من اجل ذالک…………………………جمیعاً   (مائدہ/۳۲)

ترجمہ۔ اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر واجب کر دیا تھا کہ جو شخص کسی کو نہ تو جان کے بدلہ اور نہ ہی زمین میں فساد پھیلانے کی سزا میں (بلکہ ناحق) قتل کر ڈالے گا تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کر ڈالا اور جس نے ایک آدمی کو زندہ کر دیا تو گویا اس نے سب لوگوں کو جلا لیا۔

ولا تفتلوا النفس…………………………………� ��سلطان (بنی اسرائیل…۳۳                                  
                    
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع میں واضح الفاظ میں اعلان فرمایا۔
یا ایہا الناس الا ان ربک واحد وان اباکم واحدأہ لا فضل لعربی علی عجمی ولا عجمی علی عربی ولا حمر علی اسود ولا لاسود علیٰ احمر الاباالتقویٰ۔

ترجمہ: اے لوگو! خبردار ہوجاؤ کہ تمہارا رب ایک ہے اور بے شک تمہارا باپ (آدم علیہ السلام) ایک ہے۔ کسی عرب کو غیر عرب پر اور کسی غیر عرب کو عرب پر کوئی فضیلت نہیں، اور نہ کسی سفید فام کو سیاہ فام پر اور نہ سیاہ فام کو سفید فام پر فضیلت حاصل ہے۔ سوائے تقویٰ کے۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق کسی انسان کو ناحق قتل کرنا شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے، بلکہ بعض علماء نے سورة النساء آیت نمبر93 کی روشنی میں فرمایا ہے کہ کسی مسلمان کو ناحق قتل کرنے والا ملت اسلامیہ سے ہی نکل جاتا ہے۔ ﴿وَمَن یَقْتُلْ مُؤْمِناً مُّتَعَمِّداً فَجَزَآؤُہُ جَہَنَّمُ خَالِداً فِیْہَا وَغَضِبَ اللّہُ عَلَیْْہِ وَلَعَنَہُ وَأَعَدَّ لَہُ عَذَاباً عَظِیْما﴾ اور جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور الله اس پر غضب نازل کرے گا اور لعنت بھیجے گا اور الله نے اس کے لیے بڑا عذاب تیار کرر کھا ہے




اسی طرح سورة الفرقان( آیت:69-68 ) میں الله تعالیٰ فرماتا ہے:﴿وَالَّذِیْنَ لَا یَدْعُونَ مَعَ اللَّہِ إِلَہاً آخَرَ وَلَا یَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللَّہُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا یَزْنُونَ وَمَن یَفْعَلْ ذَلِکَ یَلْقَ أَثَاماً ، یُضَاعَفْ لَہُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَیَخْلُدْ فِیْہِ مُہَاناً﴾اور جو الله کے ساتھ کسی بھی دوسرے معبود کی عبادت نہیں کرتے او رجس جان کو الله نے حرمت بخشی ہے اسے ناحق قتل نہیں کرتے اور نہ وہ زنا کرتے ہیں اور جو شخص بھی یہ کام کرے گا اسے اپنے گناہ کے وبال کا سامنا کرنا پڑے گا۔قیامت کے دن اس کا عذاب بڑھا بڑھا کر دوگنا کر دیا جائے گا۔ اور وہ ذلیل ہو کر اس عذاب میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔



آخر ی تینوں آیات میں صرف مسلمانوں کے قتل کی ممانعت نہیں ہے، بلکہ اُس شخص کے قتل کی ممانعت ہے جس کی جان کو الله تعالیٰ نے حرمت بخشی ہے۔



No comments:

Post a Comment